مینگلور27اپریل(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے یقین ظاہر کیا ہے کہ آنے والے انتخابات میں ریاستی عوام کانگریس کو دوبارہ ریاست کا اقتدار سونپیں گے۔ کرناٹک کے امن پسند عوام فرقہ پرست اور موقع پرست سیاسی جماعتوں کو کبھی پسند نہیں کریں گے۔ ان انتخابات میں بی جے پی کو مسترد کردیا جائے گا۔
آج منگلور میں پارٹی کے انتخابی منشور کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاست میں اگر نظم وضبط کی صورتحال خراب ہوتی تو سرمایہ کاری کے میدان میں کرناٹک نمبر ایک پر نہیں ہوتا جس کا اعتراف خود مرکزی حکومت نے کرناٹک کو اعزاز دے کر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہر جگہ یہ جھوٹ دہرارہی ہے کہ سنگھ پریوار کے 23کارکنوں کا قتل ہوا ہے، ان میں سے گیارہ مقتول ایسے ہیں جن کا بی جے پی سے کوئی تعلق ہی نہیں،بی جے پی ان لوگوں کے قتل کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی ناکام کوششیں کررہی ہے۔اور نہ ہی قتل کے ان واقعات کا کوئی فرقہ وارانہ پس منظر ہے۔ صرف بی جے پی کے چند لیڈر اپنے جھوٹ کے ذریعے سیاسی الو سیدھا کرنے کی کوشش بسیار کررہے ہیں۔
سدر امیا نے کہاکہ کرناٹک میں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ 100 بار بھی چکر کاٹ لیں تو بھی بی جے پی اقتدار حاصل کرنے والی نہیں ہے۔ سدرامیانے کہاکہ کانگریس پارٹی نے کبھی فرقہ پرستوں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہمیشہ امن وامان اور مساوات کے لئے کام کرتی رہی ہے اور رہے گی۔ کے پی سی سی صدر ڈاکٹر جی پرمیشور نے اس موقع پر کہاکہ پچھلے انتخابات میں کانگریس نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ان میں سے تمام تر کو پورا کیا گیا ہے۔ کرناٹک میں اقتدار پر رہنے والی کوئی بھی سیاسی جماعت اب تک انتخابی منشور کو اس قدردیانتداری سے عملی جامہ پہنا نہیں سکی جتنا سدرامیا حکومت نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس اقتدار پر قابض ہونے کے ساتھ مرکز میں مودی کی کرسی کی بنیادوں کو دہلادینے والی ہے، اسی لئے مودی کوخوف کھائے جارہا ہے کہ کرناٹک ہاتھ سے نکلا تو ملک بھی نکل جائے گا اور بہت جلد مودی کا یہ خوف حقیقت کا جامہ پہن لے گا۔ انتخابی منشور کمیٹی کے چیرمین ڈاکٹر ویرپا موئیلی نے اس موقعے پر کہاکہ آنے والے دنوں میں وزیراعظم مودی کی کرسی ان کے ساتھ نہیں رہے گی۔ ملک میں فرقہ واریت کا جو سیلاب عام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ملک کے عوام اس سے تنگ آچکے ہیں۔ فرقہ واریت کے سیلاب کو روکنے کی طاقت صرف کانگریس میں ہے۔